Thursday, November 5, 2020

سٹاک مارکیٹ پھر مندی کا شکار ،100انڈیکس 198.92پوائنٹس کم ہو گیا ڈالر مزید20پیسے ، سونا500 روپے تولہ سستا

کراچی ( وائی سی پی نیوز)پاکستان اسٹاک مارکیٹ میںبدھ کو پھر مندی کا رجحان غالب آگیا جس کے نتیجے میں کے ایس ای100انڈیکس 198.92پوائنٹس کی کمی سے40281.96پوائنٹس کی سطح پرآ گیا جب کہ شیئرز کی فروخت کے دباو¾ کے باعث59.54فیصد کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں کو17ارب 38کروڑ84لاکھ روپے کا نقصان اٹھانا پڑا تاہم حصص کی لین دین کے لحاظ سے کاروباری حجم منگل کی نسبت11.43فیصد زائد رہا۔پاکستان اسٹاک مارکیٹ میںبدھ کو کاروبار کا آغاز تیزی کیساتھ ہوا سرمایہ کاروں اور مالیاتی اداروں کی فوڈذ ،سیمنٹ ،پیٹرولیم ،اسٹیل اور توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی غرض سے خریداری کے باعث تیزی رہی جس کے باعث ٹریڈنگ کے دوران کے ایس ای100انڈیکس40911پوائنٹس کی بلند سطح پر پہنچ گیا تاہم بعد ازاںحصص فروخت کا دباو¾ بڑھ گیا جس کے نتیجے میں تیزی کے اثرات زائل ہوگئے اور مندی چھاگئی جو آخر تک برقرار رہی اور کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100انڈیکس 198.92پوائنٹس کی کمی سے40281.96پوائنٹس پر بند ہوا جب کہ کے ایس ای30انڈیکس128.04پوائنٹس کی کمی سے16865.96پوائنٹس اور کے ایس ای آل شیئرز انڈیکس 64.93پوائنٹس کی کمی سے28366پوائنٹس کی سطح پر آگیا۔گزشتہ روزمجموعی طور پر393کمپنیوں کا کاروبار ہوا جس میں سے147کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ 234میں کمی اور 12کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں استحکام رہا ۔بیشتر کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں کمی آنے کے باعث سرمائے کا مجموعی حجم 74کھرب82ارب 48کروڑ59لاکھ روپے سے گھٹ کر74کھرب56ارب9کروڑ75لاکھ روپے ہو گیا۔قیمتوں میں اتار چڑھاو¾کے اعتبار سے رفحان میظ کے حصص کی قیمت202روپے کے اضافے سے 8527.50روپے اور آئی لینڈ ٹیکسٹائیل 80.62روپے کے اضافے سے1155.62روپے ہوگئی جب کہ نیسلے پاکستان 77.56روپے کی کمی سے 6261.31روپے اور سیپ ہائر ٹیکس 62.70روپے کی کمی سے886.51روپے ہوگئی۔انٹر بینک میں بدھ کوامریکی ڈالر مزید 20پیسے کی کمی سے159.80روپے کی سطح پر آگیا جب کہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر مستحکم رہی۔فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے مطابق بدھ کو انٹر بینک میں روپے کے مقابلے ڈالر کی قدر میں20پیسے کی مزید کمی واقع ہوئی جس سے ڈالر کی قیمت خرید159.90روپے سے گھٹ کر159.70روپے اور قیمت فروخت160روپے سے گھٹ کر159.80روپے پر آ گئی جب کہ مقامی اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت خرید159.60روپے اور قیمت فروخت159.90روپے مستحکم رہی۔ دیگر کرنسیوں میںیورو کی قیمت خرید30پیسے کی کمی سے185.30روپے سے گھٹ کر185روپے اور قیمت فروخت187روپے برقرار رہی جبکہ50پیسے کی کمی سے برطانوی پونڈ کی قیمت خرید205.50روپے سے گھٹ کر205روپے اور قیمت فروخت207.50روپے سے گھٹ کر207روپے ہوگئی۔مقامی صرافہ مارکیٹوں میں سونے کی قیمت500روپے کی کمی سے ایک لاکھ13ہزار600روپے فی تولہ ہوگئی۔آل سندھ صراف اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق گزشتہ روز عالمی مارکیٹ میں گزشتہ روز سونے کی فی اونس قیمت9 ڈالرکی کمی سے1891ڈالر ہوگئی جس کے زیر اثر مقامی سطح پر سونے کی قیمت 500روپے کی کمی سے1لاکھ13ہزار600روپے ہوگئی جب کہ دس گرام سونے کی قیمت 428روپے کی کمی سے97ہزار394روپے ہوگئی۔ چاندی کی فی تولہ قیمت1200روپے مستحکم رہی۔

Wednesday, November 4, 2020

سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی ،اندیکس1300پوائنٹس بڑھ گیاامریکی ڈالر20پیسے سستا، سونا900روپے تولہ مہنگا

کراچی (وائی سی پی نیوز)پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں منگل کو زبردست تیزی کا رجحان رہا ،کے ایس ای100انڈیکس 1300پوائنٹس بڑھ گیا جس کی وجہ سے مجموعی انڈیکس ایک بار پھر40ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی حد عبور کر گیا ،کاروباری تیزی کے سبب227ارب روپے کے اضافے سے مارکیٹ کا مجموعی سرمایہ 74کھرب روپے سے تجاوز کرگیا،خریداری کے باعث83فیصد حصص کی قیمتیں بھی بڑھ گئیں۔ پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں منگل کو کاروبار کا آغاز تیزی کیساتھ ہوا سرمایہ کاروں اور مالیاتی اداروں کی فوڈذ ،سیمنٹ ،پیٹرولیم ،اسٹیل اور توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی غرض سے خریداری کے باعث مارکیٹ مستحکم انداز میں بلندیوں کی جانب گامزن رہی،منگل کو پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں کے ایس ای100انڈیکس میں1368.70پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس سے انڈیکس 39112.18 پوائنٹس سے بڑھ کر 40480.88پوائنٹس ہو گیا جبکہ کے ایس ای 30انڈیکس 590.57پوائنٹس کے اضافے سے 16403.45پوائنٹس سے بڑھ کر16994.02پوائنٹس ہو گیا اسی طرح کے ایس ای آل شیئرز انڈیکس 27566.21پوائنٹس سے بڑھ کر 28430.93پوائنٹس ہو گیا۔کاروباری تیزی کے سبب مارکیٹ کے سرمائے میں 2کھرب27ارب42 کروڑ71لاکھ78ہزار 745روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے نتیجے میں سرمائے کا مجموعی حجم 72کھرب55ارب 5کروڑ87لاکھ 98ہزار151روپے سے بڑھ کر 74کھرب82ارب 48کروڑ59لاکھ 76ہزار296روپے ہو گیا۔منگل کو مارکیٹ میں 13ارب روپے مالیت کے 38کروڑ39لاکھ 53ہزار حصص کے سودے ہوئے جبکہ پیر کو 11ارب روپے مالیت کے 32کروڑ22لاکھ89ہزار حصص کے سودے ہوئے تھے۔ پاکستان اسٹاک مارکیٹ میںمنگل کو مجموعی طور پر 402کمپنیوں کا کاروبار ہوا جس میں سے 344کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ ،51میں کمی اور 7کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں استحکام رہا۔ کاروبار کے لحاظ سے یونٹی فوڈز لمیٹڈ 4کروڑ29لاکھ ،پاور سیمنٹ 3کروڑ56لاکھ ،حیسکول پیٹرول 2کروڑ94لاکھ ،آغا اسٹیل انڈسٹریز 1کروڑ97لاکھ اور پاک انٹر نیشنل بلک 1کروڑ95لاکھ حصص کے سودوں سے سرفہرست رہے۔قیمتوں میں اتار چڑھا? کے اعتبار سے سیفائر فائبر کے حصص کی قیمت میں 66.22روپے کا اضافہ ہوا جس سے اسکے حصص کی قیمت بڑھ کر 949.21روپے ہو گئی اسی طرح 41.58روپے کے اضافے سے ماری پیٹرولیم کے حصص کی قیمت بڑھ کر 1272.26روپے ہو گئی جبکہ کولگیٹ پامولیو کے حصص کی قیمت میں43.63روپے کی کمی واقع ہوئی جس کے اسکے حصص کی قیمت کم ہو کر 2706.37روپے پر آ گئی اسی طرح 17.99روپے کی کمی سے بلیسڈ ٹیکسٹائل کے حصص کی قیمت کم ہو کر 259.01روپے ہوگئی۔انٹر بینک اور مقامی اوپن کرنسی مارکیٹ میں منگل کو روپے کے مقابلے ڈالر کی قدر میں کمی کا رجحان رہا جس کی وجہ سے ڈالر کی قدر160روپے سے گھٹ کر159روپے کی سطح پر آ گئی۔فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق منگل کو انٹر بینک میں روپے کے مقابلے ڈالر کی قدر میں20پیسے کی کمی واقع ہوئی جس سے ڈالر کی قیمت خرید 160.10روپے سے کم ہو کر159.90روپے اور قیمت فروخت160.20روپے سے کم ہو کر160روپے پر آ گئی اسی طرح مقامی اوپن کرنسی مارکیٹ میں 20پیسے کی کمی سے ڈالر کی قیمت خرید 159.70روپے سے کم ہو کر159.60روپے اور قیمت فروخت160.10روپے سے کم ہو کر159.90روپے پر آ گئی۔فاریکس رپورٹ کے مطابق یورو کی قدر میں50پیسے کی کمی واقع ہوئی جس سے ڈالر کی قیمت خرید 184.50روپے سے بڑھ کر185.30روپے اور قیمت فروخت186.50روپے سے بڑھ کر187روپے پر جا پہنچی جبکہ1روپے کے نمایاں اضافے سے برطانوی پونڈ کی قیمت خرید 204.40روپے سے بڑھ کر205.50روپے اور قیمت فروخت206.50روپے سے بڑھ کر207.50روپے پر جا پہنچی۔انٹرنیشنل گولڈ مارکیٹ میں گزشتہ روز سونے کی فی اونس قیمت میں11ڈالرز کا اضافہ ہوا جس کے بعد سونے کی فی اونس قیمت1900ڈالر کی سطح پر آگئی۔عالمی مارکیٹ میں سونے کے نرخوں میں اضافے کے باعث مقامی سطح پر سونے کی قیمت900روپے اضافے سے1لاکھ14ہزار100اور دس گرام سونے کی قیمت771روپے اضافے سے 97ہزار822روپے رہی جبکہ چاندی کی فی تولہ قیمت1200روپے کی سطح پر مستحکم ریکارڈ کی گئی۔

Tuesday, November 3, 2020

پیٹرولیم سیکٹر میں 11 کھرب روپے سے زائد کی عدم وصولیوں کا انکشاف

کراچی (وائی سی پی نیوز ) آڈیٹر جنرل پاکستان (اے جی پی) نے سرکاری اداروں بشمول پیٹرولیم ڈویژن اور اس کی ذیلی تیل اور گیس کمپنیوں میں مالی سال 19-2018 کے دوران 15 کھرب 43 ارب روپے کی بے ضابطگیوں اور بدعنوانیوں کی نشاندہی کی ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق آڈٹ رپورٹ میں آڈیٹر جنرل پاکستان نے وزارت توانائی، پیٹرولیم ڈویژن میں انتظامی کمزوریوں پر سنگین تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پیٹرولیم لیوی اور رائلٹیز، گیس انفرا اسٹرکچر ڈیویلپمنٹ سیس۔ گیس ڈیویلپمنٹ سرچارج کے واجبات کی ریکوری، ریونیو رسیدوں کی کلیکشن اور جائزے کی نگرانی کےلئے کوئی میکانزم موجود نہیں ہے۔رپورٹ کے مطابق اس کے نتیجے میں ایک کھرب 46 ارب 7 کروڑ60 لاکھ روپے کی نان ٹیکس رسیدوں کی عدم وصولی کے کیسز نوٹ کیے گئے۔موجودہ حکومت کے پہلے مالی سال سے متعلق اپنی رپورٹ میں آڈیٹر جنرل نے کہا کہ او جی ڈی سی ایل، پی ایس او، پی پی ایل، ایس این جی پی ایل اور ایس ایس جی سی کے کیسز میں مالی غلطیاں بھی دیکھی گئیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ سرکاری شعبے کے انٹرپرائزیز (پی ایس ایز) کی جانب سے صارفین سے قابل وصول ادائیگیوں کی عدم وصولی کے 16 کیسز 7 کھرب 92 ارب 77 کروڑ 80 لاکھ روپے کے برابر ہیں۔اے جی پی نے کہا کہ اس کے آڈٹ کے نتیجے میں رپورٹ میں 11 کھرب روپے سے زائد کی ریکوریز کی نشاندہی کی گئی تھی اور جنوری تا دسمبر 2019 کے مابین 15 ارب 23 کروڑ 90 لاکھ روپے کی ریکوریز کی گئیں جس کی آڈٹ میں تصدیق ہوگئی۔اے جی پی نے پیٹرولیم ڈویژن اور اس کی 16 پی ایس ایز کے 53 کھرب 84 ارب روپے کے مجموعی اخراجات اور 3 کھرب 47 ارب روپے کی نان ٹیکس رسیدوں کا جائزہ لیا۔آڈٹ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ نئی تعیناتیوں، دوبارہ بھرتیوں اور ماہرین کی خدمات حاصل کرتے ہوئے پی ایس ایز ریگولیشنز کو مدِ نظر نہیں رکھ رہی تھیں، اس میں بھرتیوں کے عمل میں تضادات کے حوالے سے بطور خاص پیٹرولیم ڈویژن، او جی ڈی سی ایل، پی ایس او، ایس این جی پی ایل اور ایس ایس جی سی کا ذکر کیا گیا۔

غیرملکی سرمایہ کاروں کو 3ماہ میں 65فیصد منافع، اپنے اپنے ممالک منتقل کر دیا(سٹیٹ بینک)

کراچی (وائی سی پی نیوز ) سٹیٹ بینک نے کہا ہے پاکستان میں غیرملکی سرمایہ کاری کامنافع 65فیصد بڑھ گیا، 3ماہ میں غیرملکی سرمایہ کاروں نے سرمایہ کاری سے 65فیصد منافع بیرون ملک منتقل کیا۔سٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کار و ں نے پہلی سہ ماہی میں 57کروڑ 68 لاکھ ڈالر بیرون ملک بھجوائے گئے،بیرون ملک بھیجی رقم گزشتہ سال سے 22کروڑ 76 لاکھ ڈالر ز یا دہ ہے،تین ماہ میں پاکستان میں نئی غیر ملکی سرمایہ کاری کا مجموعی حجم 38کروڑ 89 لاکھ ڈالر تھا، پاکستان میں غیرملکی سرمایہ کاری کامنافع65 فیصد بڑھ گیا، 3ماہ میں غیرملکی سرمایہ کاروں نے سرمایہ کاری سے 65فیصد منافع بیرون ملک منتقل کیا۔حکام نے کہا غیرملکی سرمایہ کاروں نے سٹاک مارکیٹ سے 1کروڑ 78 لاکھ ڈالر کما کر باہر بھجوائے جبکہ سب سے زیادہ 15کروڑ 22 لاکھ ڈالر کا منافع فوڈ سیکٹر کی طرف سے بھجو ا یا گیا،کمیونیکیشن سیکٹر کے سرمایہ کاروں نے 11کروڑ 87 لاکھ ڈالر باہر بھجوائے۔

سٹاک مارکیٹ شدید مندی کا شکار،100انڈیکس مزید775.82پوائنٹس گر گیا امریکی ڈالر 15پیسے سستاسونا1100روپے تولہ مہنگا

کراچی (وائی سی پی نیوز ) پاکستان اسٹاک مارکیٹ میںنئے کاروباری ہفتے کے پہلے روز پیر کو بھی شدیدمندی کا رجحان برقرار رہا جس کے نتیجے میںکے ایس ای100انڈیکس مزید775.82پوائنٹس کی کمی سے39112.18پوائنٹس کی سطح پر آگیا جب کہ سرمایہ کاروں کی جانب سے مارکیٹ سے سرمایہ نکالنے کو ترجیح دینے کے باعث74.24فیصد کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میںکمی ریکارڈکی گئی جس کے سبب سرمایہ کاروںکوایک کھرب 44ارب57کروڑ4لاکھ روپے کا نقصان اٹھانا پڑاجب کہ حصص کی لین دین کے لحاظ سے کاروباری حجم بھی گزشتہ ٹریڈنگ سیشن کی نسبت40.51فیصدکم رہا۔پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں گزشتہ روز ٹریڈنگ کے آغازسے ہی مفی رجحان دیکھنے میں آیا اور سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص فروخت کے دباو¾ کے باعث مندی چھاگئی جس کے نتیجے میں ٹریڈنگ کے دوران کے ایس ای100انڈیکس 39ہزار کی نفسیاتی حد سے نیچے گرتے ہوئے38776 پوائنٹس کی نچلی سطح پرآ گیابعد میں ریکوری آئی اور انڈیکس کی 39ہزار کی نفسیاتی حد بحال ہوگئی لیکن مندی آخر تک غالب رہی اورکاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100انڈیکس775.82پوائنٹس کی کمی سے 39112.18پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا جب کہ کے ایس ای30انڈیکس 346.92ائنٹس کی کمی سے 16403.45پوائنٹس اور کے ایس ای آل شیئر انڈیکس 619.35پوائنٹس کی کمی سے 27566.21پوائنٹس پربند ہوا۔گزشتہ روز مجموعی طور پر396کمپنیوں کا کاروبار ہوا جس میں سے87کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ 294میں کمی اور15کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں استحکام رہا۔مندی کے سبب مارکیٹ کے سرمائے کا مجموعی حجم73کھرب99ارب62کروڑ91لاکھ روپے سے گھٹ کر72کھرب55ارب5کروڑ87لاکھ روپے ہوگیا۔قیمتوں میں اتار چڑھاوکے اعتبار سے رفحان میظ کے حصص کی قیمت125روپے کے اضافے سے 8325روپے اوریونی لیور فوڈز100روپے کے اضافے سے 13ہزارروپے ہوگئی جب کہ یونی لیور فوڈزکے حصص کی قیمت 100روپے کی کمی سے 13ہزارروپے اورپاک ٹوبیکو122.96روپے کی کمی سے1527.04روپے اورباٹا پاک118.85روپے کی کمی سے1469.90روپے ہوگئی۔مقامی کرنسی مارکیٹوں میں امریکی ڈالرکی قدر میں کمی کا سلسلہ برقرار ہے پیر کو ڈالرمزید کمی کے بعد 160.20روپے کی سطح پر آگیا جب کہ یورو اور برطانوی پاونڈ کی قدر میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی۔فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے مطابق پیر کو انٹر بینک میں پاکستانی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر میں مزید15پیسے کی کمی ہوئی جس کے باعث ڈالر کی قیمت خرید160.25روپے سے گھٹ کر160.10روپے اور قیمت فروخت160.35روپے سے گھٹ کر160.20روپے ہو گئی جب کہمقامی اوپن کرنسی مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قیمت خرید20پیسے کی کمی سے158.90روپے سے گھٹ کر159.70روپے اور قیمت فروخت160.20روپے سے گھٹ کر 160.20روپے ہوگئی ۔دیگر کرنسیوں میں یورو کی قیمت خرید185روپے سے گھٹ کر 184.50روپے اور قیمت فروخت187روپے سے گھٹ کر 186.50روپے ہوگئی جب کہ برطانوی پاونڈ کی قیمت خرید205.50روپے سے گھٹ کر 204روپے اور قیمت فروخت208روپے سے گھٹ کر 206.50روپے ہوگئی۔مقامی صرافہ مارکیٹوں میں سونے کی قیمت1100روپے کے اضافے سے ایک لاکھ13ہزار200روپے فی تولہ ہوگئی۔آل سندھ صراف اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق گزشتہ روز عالمی مارکیٹ میں گزشتہ روز سونے کی فی اونس قیمت10 ڈالرکے اضافے سے1889ڈالر ہوگئی جس کے زیر اثر مقامی سطح پر سونے کی قیمت 1100روپے کے اضافے سے1لاکھ13ہزار200روپے ہوگئی جب کہ دس گرام سونے کی قیمت 943روپے کے اضافے سے97ہزار51روپے ہوگئی۔ چاندی کی فی تولہ قیمت30روپے کے اضافے سے1200روپے ہوگئی۔

Monday, November 2, 2020

گیس کی قیمتیں بڑھنے سے بجلی بھی 12 فیصد مزید مہنگی ہو گی، مزید مہنگائی بڑھے گی، نعمان کبیر

اسلام آباد (وائی سی پی نیوز)چیئرمین پاکستان انڈسٹریل اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشنز فرنٹ (پیاف) میاں نعمان کبیر نے سیئنر وائس چیئرمین ناصر حمید خان اور وائس چیئرمین پیاف جاوید اقبال صدیقی کے ہمراہ صنعتکاروں کے ایک وفد سے ملاقات کرتے ہوئے کہا ہے کہ و فاقی حکومت کی جانب سے 94 ارب روپے کی وصولی کےلئے قدرتی گیس کی قیمتوں میں143 فیصد تک اضافے کے اعلان سے اشیاءو خد مات کی قیمتوں میں اضافہ سے مہنگائی کے مزید بڑھنے کا خدشہ ہے اور صنعتیں بند ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے ۔اگرگیس کی قیمتیں بڑھیں تو بجلی بھی 12 فیصد مزید مہنگی ہو جائے گی جس سے مزید مہنگائی بڑھے گی۔حکومت گیس کی قیمتوں میں مجوزہ اضافہ نہ کرے یہ بے روز گاری اور معاشی عدم استحکام کا باعث بنے گا۔ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے گھریلو صارفین کے لئے گیس کی قیمتون میں چھوٹے چھوٹے درجے کے صارفین سے لیکر بڑے درجے کے صارفین تک بتدریج ۱۰ فیصد سے ۱۴۳ فیصد تک اضافے کی اجازت دی ہے۔ ای سی سی نے تجارتی اور صنعتی صارفین کےلئے گیس کی قیمتوں کو ۳۰ فیصد سے بڑھا کر ۵۷ فیصد کرنے کی بھی منظوری دی ہے، اس سے صنعتوں کی پیداوار مہنگی ہو جائے گی۔وفاقی حکومت انڈسٹری سے مشاورت کیے بغیر کوئی فیصلے نہ کرے ۔ملکی صنعتی سیکٹر کو گیس ہمسایہ ممالک کے مقابلے میںپہلے ہی مہنگے داموں فروخت کی جارہی ہے۔پیداواری لاگت زیادہ ہونے سے بین الاقوامی مارکیٹ میں پاکستانی اشیاءکی مانگ میں مسلسل کمی آ رہی ہے ۔ چیئر مین پیاف میاں نعمان کبیر نے کہا کہ صنعتی و کمرشل مقاصد کے لئے گیس کی قیمتوں میں مجوزہ اضافہ صنعتوں کی کمر توڑ کر رکھ دیگااور اس کا بالواسطہ اثر بزنس کمیونٹی بالخصوص عوام پر پڑے گا کیونکہ انڈسٹریز کی پیداواری لاگت میںمزید اضافہ ہو جائے گا جس سے اشیاءکی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو جائے گا۔ برآمدات پالیسی میں مقرر کردہ اہداف بجلی و گیس کی قیمتوں میں اضافے سے حاصل نہیں ہو سکیں گے۔پاکستان میں پےداوری لاگت اپنے ہمساےہ ممالک( انڈےا،تھائی لےند ،چےن، بنگلہ دےش وغےرہ ) کے مقابلے مےں پہلے ہی بہت زےادہ ہے۔ گیس پاکستان کے قدرتی وسائل سے حاصل ہوتی ہے اور اس کی قیمت میں اضافہ کرنے کا منصوبہ بلا جواز ہے۔ دن بدن غیر ملکی قرضوں میں اضافہ سے حکومت کا ٹیکسوں کااضافی بوجھ بھی عوام برداشت کررہی ہیں جس کے باعث مہنگائی میں بھی مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

جولائی سے ستمبر2020 تک سعودی عرب کو106.95 ملین ڈالرمالیت کی برآمدات ریکارڈ

اسلام آباد (وائی سی پی نیوز)سعودی عرب کو پاکستانی برآمدات میں جاری مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 19.89 فیصداضافہ ریکارڈکیاگیاہے ،پہلی سہ ماہی میں سعودی عرب سے درآمدات میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیاہے۔سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے اس حوالہ سے جاری کردہ اعدادوشمارکے مطابق جولائی سے ستمبر2020 تک کی مدت میں سعودی عرب کو106.95 ملین ڈالرمالیت کی برآمدات ریکارڈکی گئیں جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلہ میں زیادہ ہے، گزشتہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں سعودی عرب کو89.21 ملین ڈالرکی برآمدات ریکارڈکی گئی تھیں۔ستمبر2020 میں سعودی عرب کو35.62 ملین ڈالرکی برآمدات ہوئیں، گذشتہ سال ستمبرمیں سعودی عرب کو31.24 ملین ڈالرکی برآمدات ریکارڈکی گئی تھیں۔مالی سال 2019-20 میں سعودی عرب کوپاکستان کی مجموعی برآمدات کا حجم 453.86 ملین ڈالررہا تھا۔سٹیٹ بینک کے مطابق مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں سعودی عرب سے درآمدات میں 12.39 فیصد اضافہ ریکارڈکیا گیاہے۔

Five Predictions for 2026

                 Ah, what a time it was when film advertisements were published in newspapers, a person's hea...